اسرائیل کیجانب سے فلسطینیوں کے مقبوضہ علاقوں میں بستیاں بسانا غیرقانونی قرار



یورپین یونین نے ایک بار پھر اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے مقبوضہ علاقوں میں بستیاں بسانے کے لیے ٹینڈر جاری کرنے کے فیصلے کے بعد کہا ہے کہ یہ تعمیرات بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔

یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اسرائیلی حکام نے 30 اسرائیلی بستیوں میں 2860 سے زائد ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز کی اشاعت کا اعلان کیا جن میں کچھ بستیاں مغربی کنارے کے کافی اندر جا کر بھی شامل ہیں۔

یہ اتوار کو اسرائیلی بستیوں کے ساتھ ساتھ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں گیوات ہماتوس میں 1300 سے زائد ہاؤسنگ یونٹس کے لیے شائع کیے گئے ٹینڈرز کے اعلان کے بعد نیا ٹینڈر ہے۔

یورپین یونین کے مطابق بین الاقوامی قانون کے تحت یہ تمام تعمیرات غیر قانونی ہیں اور یہ دو ریاستی حل اور فریقین کے درمیان منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

اعلامیے کے مطابق یورپین یونین نے مسلسل واضح کیا ہے کہ وہ ان بستیوں کی توسیع کے سخت خلاف ہے اور وہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں میں تبدیلی بشمول یروشلم کے حوالے سے فریقین کے متفق ہونے کے علاوہ کسی بھی فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گا۔

بیان میں یورپین یونین نے اسرائیل سے اپنا یہ مطالبہ دہرایا کہ وہ تناؤ کو کم کرنے، سکون کو یقینی بنانے، بستیوں کی تعمیر کو روکنے اور فریقین کے درمیان دوبارہ بامعنی مشغولیت کو آگے بڑھانے اور اعتماد سازی کے اقدامات کو آگے بڑھانے کی کوششوں سے مکمل طور پر مطابقت نہ رکھنے والے تمام اقدامات کو واپس لے۔

یورپین یونین نے نشاندہی کی کہ عام لوگوں کے لیے حالات زندگی کو بہتر بنانے کی فوری ضرورت ہے۔

یونین نے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ ای یو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان پائیدار امن کے لیے اقدامات کی حمایت میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔



شاید آپ یہ بھی پسند کریں