جواد احمد کو جان سے مارنے کی دھمکیاں کیوں ملیں؟



معروف پاکستانی گلوکار جواد احمد نے انکشاف کیا ہے کہ جب انہوں نےموسیقی ی دنیا میں قدم رکھا تو انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئی تھیں۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے آرٹس کونسل میوزک اکیڈمی اور تھیٹر اکیڈمی کے طلباءکے لیےآرٹس کونسل آڈیٹوریم میں منعقد کی گئی ورکشاپ میں جواد احمد نے نوجوانوں کو موسیقی میں اپنے فنی سفر کے اُتار چڑھاؤ اور مختلف تجربات سے آگاہ کیا۔

گلوکار  نے بتایا کہ ’انہوں نے میوزک سے اتنا کمایا ہے کہ میری تین نسلیں بیٹھ کر کھا سکتی ہیں۔‘

انہوں نے نوجوانوں سے درخواست کرتے ہوئےکہا کہ ’ موسیقی ایک بہت بڑی طاقت ہےاور انسانی کیفیات پر فوری اثر انداز ہوتی ہے لہٰذا اس کا استعمال انسانی آزادی ، خُوب صورتی،  رومانس اور جذباتی تعلقات کے لیے، آرٹ ہمیشہ ارتقائی ہونا چاہیے۔‘

انہوں نے انکشاف کیا کہ’ انہوں نے یونیورسٹی میں جب نیا نیا گانا شروع کیاتھا تو اس وقت کچھ عناصر کی جانب سے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملیں۔‘

انہوں نے سیاست میں قدم رکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ’وہ سیاست میں دولت کمانے نہیں آئے، انہیں اللہ نے عزت، دولت اور بے پناہ شہرت سے نوازا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ وہ نہ تو ایکشن میں حصہ لینا چاہتے ہیں اور نہ ہی کسی سرکاری عہدے کی طلب ہے۔‘

آخر میں انہوں نےاپنی سیاسی جماعت کامقصد بتاتے ہوئے کہا کہ ’ برابری پارٹی پاکستان، بنانے کا مقصد غریب عوام کو ان کے حقوق سے آگاہی دلوانا اوران کا طرزِزندگی بہتر کرنا تھا۔‘ 



شاید آپ یہ بھی پسند کریں