تابوت میں میّت کو دفنانے کا حکم




تفہیم المسائل

سوال: میت کو تابوت میں دفن کرنے کی بابت شرعی حکم کیا ہے؟ (فضلِ غفور ، پشاور)

جواب: فقہائے کرام نے ذکر کیا ہے :’’ اگر فوت ہونے والا شخص مرد ہو تو بلاعذر اُسے تابوت سمیت دفن کرنا مکروہ ہے اور اگر میت عورت ہے تو اُسے تابوت کے ساتھ دفن کرنا افضل ہے‘‘ ، علامہ علاء الدین حص کفیؒ فرماتے ہیں: ترجمہ:’’ضرورت وحاجت کے وقت مرد میت کے لیے تابوت بنانے میں حرج نہیں ہے، خواہ وہ پتھر کا ہو یا لوہے کا،حاجت سے مراد جیسے زمین کا نرم ہونا‘‘۔ اسی طرح اگر زمین میں پانی ہے یا میت کے اعضاء کسی حادثے کے سبب منتشر ہیں ،تو اُسے تابوت میں دفن کیا جاسکتا ہے۔

علامہ ابن عابدینؒ فرماتے ہیں: ترجمہ:’’لیکن اگرقبر کی چھت ہو اور اس کے اوپر بھی کوئی تعمیر ہو، جیسے ہمارے علاقے کی قبریں ہوتی ہیں اور زمین میں نمی نہ ہو اور لحد نہ بنائی ہوئی ہو تو تابوت میں دفن کرنا مکروہ ہے ‘‘ ۔نیز فرماتے ہیں: ترجمہ:’’اور عورت کو مطلقاً (یعنی کسی عذر کے بغیربھی) تابوت میں دفن کیا جاسکتا ہے اور ’’مُنْیۃ المصلی‘‘ کی شرح میں اس کی تصریح کی گئی ہے اور ’’محیط‘‘میں ہے: ہمارے مشایخ نے عورتوں کو تابوت میں دفن کرنے کو مستحسن قرار دیا ہے ، یعنی اگر زمین نرم بھی نہ ہو (تب بھی) ،کیونکہ یہ ستر اور قبر میں رکھتے وقت میت کو چھونے سے اجتناب کا ذریعہ ہے ، (ردالمحتار،ج:2،ص:235)‘‘ ۔ اگر خدانخواستہ کسی حادثے یا بارش کی کثرت یا اچانک قبر کھودے جانے کے سبب میت ظاہر ہوجائے ،تو ستر قائم رہے گا۔



شاید آپ یہ بھی پسند کریں