قومی و ملی یک جہتی اتحاد و یگانگت کی ضرورت و اہمیت




ڈاکٹر آسی خرم جہا نگیری

اسلام دین فطرت اور کامل ترین ضابطۂ حیات ہے، اسلامی تعلیمات اوراس کے قوانین تمام شعبۂ حیات کا بخوبی احاطہ کرتے ہیں اور زندگی کے ہر رخ، ہر پہلو، ہر شعبے میں انفرادی و اجتماعی، قومی و بین الاقوامی ہر سطح پر کامل رہنمائی کرتے ہیں۔ دین اسلام اہل ایمان کو احترام آدمیت اور تکریم انسانیت بالخصوص جان مسلم کے تقدس کا درس دیتے ہوئے اس کی لازوال قدر و قیمت کی جانب توجہ مبذول کراتا اور یہ احساس دلاتا ہے کہ دین کے مقدس ترین رشتے کی بناء پر مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔

رحمۃ للعالمینﷺ کا فرمان ہے:اے رب! میں (محمدﷺ) گواہی دیتا ہوں کہ تمام انسان بھائی بھائی ہیں۔(مسندابودائود)

آپﷺ نے فرمایا:اللہ رب العزت اس پر رحم نہیں فرماتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔ (مسلم، ترمذی)

ہم اس رسول ﷺ کے امتی ہیں جو تمام جہانوں کے لئے رحمت ہیں۔جن کی رحمت اور محبت اپنے اور غیروں سب کے لئے ہے۔ آپ کے لائے ہوئے نظام کا مقصدصرف اپنی فلاح اور مسلمانوں ہی کی بہبود نہیں تھا،بلکہ اس کا مقصدانسانیت کی فلاح اور ترقی تھا۔

س میں کوئی شک نہیں کہ اسوۂ نبوی ﷺکی پیروی میں دنیا و آخرت کی بہبود مضمر ہے، یہی وہ راستہ ہے،جسے اپنا کر ہم دین و دنیا میں سرخ رو ہو سکتے ہیں۔ میانہ روی ، فلاح عامہ، احترام ِ انسانیت، باہمی رواداری اور تحمل و برداشت سیرتِ طیبہ کے نمایاں پہلو ہیں۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم سیرتِ نبویؐ کو اپناتے ہوئے اپنے مذہبی اور معاشرتی فرائض بجا لائیں اور دنیا میں امن و سلامتی اور اخوت کا پیغام عام کردیں، تا کہ یہ دنیا امن وسلامتی کا گہوارہ بن جائے۔

ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور اللہ عزّوجل سب سے زیادہ محبت اس سے کرتا ہے جو اس کی عیال کو سب سے زیادہ محبوب رکھتا ہے۔(بیہقی)

آپﷺ نے ارشاد فرمایا: مخلوق پر رحم کرنے والوں پر رحمٰن رحم کرتا ہے،جو زمین پر رہتے ہیں ،تم ان پر رحم کرو جو آسمانوں میں رہتا ہے وہ تم پر رحم کرے گا۔ (ابو دائود، ترمذی)

ارشاد نبویﷺ ہے:تم ایسا پاؤ گے ایمان والوں کو آپس میں رحم کرنے،محبت کرنے، ایک دوسرے کی تکلیف کا احساس کرنے میں جیسے ایک جسم کا کوئی حصہ بھی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو انسان اپنے سارے جسم میں تکلیف محسوس کرتا ہے۔ (بخاری، مسلم، ترمذی)

سب مومن جسدِ واحد کی طرح ہیں کہ اگر دکھتی ہے ایک آنکھ، تو دکھتا ہے سارا جسم! اور اگر دکھتا ہے سر تو دکھتا ہے تمام جسم۔ (صحیح مسلم)

حضور اکرمﷺ نے تمام مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا ۔مسلمانوں کی بقا اور سربلندی باہمی اتفاق اور مفاہمتی حکمت عملی میں مضمر ہے ۔ مسلمانوں میں مفاہمت کرانا عبادت سے بھی افضل عمل بتایا گیا ہے ۔

مومن، دوسرے مومن کا بھائی ہے۔مومن، مومن کے ساتھ خیانت نہیں کرتا، ظلم نہیں کرتا، جھوٹا وعدہ نہیں کرتا، اس کی کسی جائز خواہش کو رد نہیں کرتا۔ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا، اس کی مدد نہیں چھوڑتا اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔ تقویٰ اس جگہ ہے (یہ فرما کر آپﷺ نے اپنے سینہ مبارک کی جانب اشارہ کیا ،پھرتین مرتبہ پھر فرمایا) انسان کے لیے اتنی ہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر سمجھے۔ مسلمان کے لیے مسلمان کی ہر چیز حرام ہے۔ اس کا خون بھی، اس کا مال بھی اور اس کی آبرو بھی۔ (صحیح مسلم)

آپﷺ نے ارشاد فرمایا:(سچا) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان سلامت رہے۔ (بخاری و مسلم) مسلمان، مسلمان کا آئینہ ہے۔ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے ،وہ اس سے ایسی چیز دور کرتا ہے جس میں اس کی ہلاکت ہے اور اس کی غائبانہ حفاظت کرتا ہے۔(ترمذی و ابودائود)

مومن، الفت کا محل ہے اور اس شخص میں کوئی خوبی نہیں، جو الفت نہیں کرتا اور اس سے الفت نہیں کی جاتی۔ (بیہقی) اللہ عزوجل فرماتا ہے جو میری رضا کی خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں، ان کے لیے نور کے منبر ہوں گے۔ ’’انبیائے کرامؑ اور شہداؒ ان پر رشک کریں گے (ترمذی)

اسلامی تعلیمات کا پڑھنا باعثِ سعادت،اس کا سمجھنا باعثِ ہدایت اور اس پر عمل پیرا ہونا باعثِ نجات ہے۔ آئیے معاشرے میں اسمِ محمدﷺ سے اجالا کرکے ظلمت و جاہلیت کے اندھیروں کا صفایا کریں اور معاشرے کو گل و گلزار بنائیں، اپنا محاسبہ کریں اور اپنی نجات و شفاعت کا سامان پیدا کریں کہ آج وطن عزیز کو امن وسلامتی اور اخوت و بھائی چارے کی اشد ضرورت ہے۔



شاید آپ یہ بھی پسند کریں