حضرت امام جعفر صادقؒ اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب




سید صفدر حسین 

روایت کے مطابق حضرت امام جعفر صادقؒ کی ولادت 80ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کے والد گرامی امام محمد باقرؒاور دادا امام زین العابدینؒ تھے۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے، امام جعفر صادقؒ بن امام محمد باقرؒ بن امام زین العابدینؒ بن حضرت امام حسینؓ بن حضرت علی المرتضیٰؓ ۔آپ کی والدہ بزگوار فاطمہ (کنیت ام فروہ) بنت قاسم بنت محمد بن حضرت ابو بکرؓ تھیں۔آپ اپنے زمانے کی خواتین میں بلند مقام رکھتی تھیں۔

امام جعفر صادقؒ کے نانا قاسم بن محمد ابن ابوبکر ؓ مدینہ کے سات عظیم فقہا میں شامل تھے۔آپ کی کنیت ابو عبداللہ‘ابو اسماعیل‘ابو موسیٰ اور القاب صادق‘فاضل‘طاہر زیادہ مشہور ہیں۔حضرت امام جعفر صادق ؒ اپنے والد محترم حضرت امام باقرؒ سے رشد و ہدایت اور روحانیت کی مکمل تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ اپنے نانا حضرت قاسم ؒ بن محمد بن ابوبکر صدیقؓ سے فقہ،حدیث اور روحانیت میں فیض یاب ہوئے۔

امام موصوف اپنے والد محترم کے وصال کے بعد مسندِ ارشاد و ہدایت پر جلوہ افروز ہوئے اور امام اہل بیتؓ ہوئے۔آپ علم فقہ اورحدیث میں ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔کئی علوم میں آپ کو دسترس حاصل تھی۔بالخصوص علم جفر میں آپ کو انفرادیت حاصل تھی۔ تشنگانِ علم و حکمت دور دروازے سے آتے اورامام جعفر صادق ؒسے فیض یاب ہوا کرتے تھے۔آپ کی درس گاہ کے فیض سے جہاں قدیم علوم کا احیاء ہوا، وہاں جدید علوم کی بھی بنیاد رکھی گئی۔مسلمانوں میں نابغہ روزگار ہستیاں پیدا ہوئیں۔عراق کے محدث جلیل اور کوفہ کے واعظِ شریں گفتار حضرت سفیان ثوریؒ آپ کی مجلس کے فیض یافتہ تھے۔کوفہ کے فقیہ اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ اور مدینہ کے محدث و فقیہ حضرت امام مالکؒ آپ کے تلامذہ میں تھے۔

دین و شریعت میں امام جعفر صادقؒ کے وضع کردہ چار سو اصول ہی کتب اربعہ کا منبع ہیں۔آپ کے گراں قدر‘بیانات‘فرمودات‘ارشادات نے جہالت اور گمراہی کے پردوں کو چاک کردیا۔آپ نے رسول اکرم ﷺکے الہامی و آفاقی دستور حیات کو لوگوں کے سامنے اس طرح پیش فرمایا کہ لوگ دین و شریعت سے روشنا س ہوئے۔حضرت امام جعفر صادقؒ کو اپنے عہد کے جملہ علوم و فنون پر پوری دستگاہ اور معرفت حاصل تھی۔علم فقہ میں تو آپ یگانہ روزگار تھے ہی ۔آپ نے سیاست میں کوئی عملی حصہ نہیں لیا۔

آپ کے جدبزگوار حضرت امام حسینؓ کی کربلا میں شعائر اسلامی کے تحفظ اور بقا کے لیے ۔شہادت عظمیٰ اور یزید کی ظالم فوج کے ہاتھوں آپ کے اہل خاندان پر ظلم و ستم جیسے روح فرسا واقعات نے خاندانِ رسولؐ بشمول حضرت امام جعفر صادقؒ کو بہت زیادہ متاثر کیا۔آپ دنیوی سیاست سے متنفر ہوگئے اور رشد و ہدایت و تطہیر امت کے خاندانی وظیفہ کو اپنا شغل ِ حیات بنایا۔ علم و فضل میں آپ یکتائے زمانہ تھے۔ آپ کے علمی مقام کا اعتراف کرتے ہوئے امام ابوحنیفہؒ نے کہا ہے: ” میں نے جعفر ابن محمدؒ سے زیادہ عالم کوئی اور شخص نہیں دیکھا۔”

عباسی خلیفہ ابوجعفر منصور شکی مزاج تھا اور اس کے درباری بھی آپ کے خلاف اس کے کان بھرتے تھے۔نیز اس کے ظلم و جبر سے مجبور ہوکر حضرت امام جعفرصادقؒ کے عم زاد محمد مہدی نفس زکیہ اور ان کے بھائی ابراہیم بن عبداللہ نے منصور کے خلاف خروج کیا۔امام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ جیسے فقہائے عظام نے دونوں حضرات کی حمایت کی،اس لیے منصور کو امام جعفر صادقؒ سے بھی بدگمانی ہوئی کہ مبادا آپ بھی اپنے خاندان کے دیگر بزرگوں کی طرح منصور کی جابرانہ حکومت کے خلاف خروج نہ کریں،لہٰذا اس نے آپ کو دارالخلافہ بغداد طلب کیا اور اپنے شکوک کا اظہار کیا ۔

آپ نے فرمایا کہ جب انہوں نے بنوامیہ کے خلاف خروج نہیں کیا جو آپ کے اور منصور من جملہ بنی ہاشم کے سب سے بڑے دشمن تھے،تو منصور جو آپ کا ابن عم خاندان بنی ہاشم میں سے ہے،اس کے خلاف خروج کیسے کرسکتے ہیں۔آپ کا جواب سن کر منصور مطمئن ہوگیا، اس کی بدگمانی دور ہوگئی،پھر اس نے تعظیم و تکریم کے ساتھ آپ کو مدینہ روانہ کردیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے خلاف بدگمانی نے اس میں غیض و غضب پیدا کردیا تھا،لیکن جوں ہی آپ کے روئے صادقہ پر اس کی نظر پڑی ،اس کے دل میں قدرت خداوندی نے سکون و اطمینان کی کیفیت پیدا کردی اور اس کی بدگمانی دور ہوگئی۔

یہ آپ کے صادق ہونے کی کرامت تھی۔ بعدازاں آپ نے مدینہ میں گوشۂ نشینی اختیار کرلی اور وعظ و تلقین اور اپنے افضل البشر جدگرامی کی امت کی اصلاح میں مشغول ہوگئے۔148ھ یا بہ اختلاف روایت 150ھ میں آپ خالق حقیقی سے جاملے۔



شاید آپ یہ بھی پسند کریں