امریکا میں 3 سالہ بچوں کی کورونا ویکسینیشن اکتوبر میں متوقع، امریکی پروفیسر



معروف امریکی ماہر نفسیات اور بیلر کالج آف میڈیسن کے شعبہ نفسیات کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عاصم شاہ کا کہنا ہے کہ امریکا میں کورونا کے خلاف تین سال اور اس سے زائد عمر کے بچوں کی ویکسینیشن اس سال اکتوبر کے مہینے میں شروع ہونے کا امکان ہے کیوں کہ کورونا وائرس کی چوتھی لہر میں بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

اس وقت ٹیکساس کے چلڈرن اسپتال کے تمام بیڈ کورونا سے متاثرہ بچوں سے بھرے ہوئے ہیں، کورونا سے بچوں کی ذہنی صحت پر بھی شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں، والدین اور سوسائٹی کا فرض ہے کہ وہ بچوں کو ان ذہنی اثرات سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

ان خیالات کا اظہار پروفیسر ڈاکٹر عاصم شاہ نے کراچی کے مقامی ہوٹل میں پاکستانی ڈاکٹروں کو خاص طور پر معروف ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر اقبال آفریدی کے اعزاز میں منعقد کی گئی تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب کا انعقاد چلڈرن اسپتال کراچی نے پاکستانی ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کورونا وبا کے دوران خدمات کے اعتراف میں کیا تھا، اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر اقبال آفریدی اور دیگر ڈاکٹروں کو شیلڈز اور اسناد سے نوازا گیا۔

امریکا میں 3 سالہ بچوں کی کورونا ویکسینیشن اکتوبر میں متوقع، امریکی پروفیسر

جناح اسپتال کی سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی، موجودہ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پروفیسر طارق محمود، پروفیسر تسنیم احسن، کرکٹر شعیب محمد، توصیف احمد، اولمپئن اصلاح الدین، محکمہ صحت سندھ کے فوکل پرسن ڈاکٹر سکندر میمن، ایڈیشنل سیکرٹری اعجاز خانزادہ سمیت سینئر ڈاکٹروں اور اہم شخصیات موجود تھیں جبکہ ورلڈ سائکیٹرک ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر افسر جاوید نے آن لائن خطاب کیا۔

تقریب سے اپنے کلیدی خطبے میں معروف امریکی ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر عاصم شاہ کا کہنا تھا کہ کورونا کی چوتھی لہر میں دنیا بھر میں بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد دنیا بھر میں حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ تین سال سے زائد بچوں کو بھی کورونا کی ویکسین لگائی جائے کیونکہ بچوں کی ویکسینیشن کے بغیر ہرڈ امیونٹی کا تصور ہی محال ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسکول بند ہونے اور اپنے دوستوں سے ملنے کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے بچے نفسیاتی عوارض کا شکار ہو رہے ہیں، امریکا میں کورونا کی وبا کے دوران بچوں میں خودکشی کے متعلق سوچنے اور خودکشی کرنے کی کوششوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ بچوں کو ویکسین لگانے کے بعد اسکول کھولنے کے نتیجے میں بچوں کی ذہنی حالت میں بہت بہتری آنے کا امکان ہے۔

انہوں نے اس موقع پر معروف پاکستانی ماہر نفسیات اور پاکستان سائکیٹرک سوسائٹی کے سابق صدر پروفیسر اقبال آفریدی کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ صرف کورونا سے پہلے بلکہ کورونا کی وبا کے دوران ذہنی امراض کا شکار افراد خاص طور پر بچوں کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی جس کے نتیجے میں وہ اس مرض کا شکار ہوئے اور شدید بیمار رہنے کے بعد اپنے مریضوں اور اہل خانہ کی دعاؤں کے نتیجے میں صحت یاب ہوئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر اقبال آفریدی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے باوجود پاکستان میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی خدمات کو اس طرح نہیں سراہا گیا جس طرح دوسرے ممالک میں ان کی پذیرائی کی گئی۔

امریکا میں 3 سالہ بچوں کی کورونا ویکسینیشن اکتوبر میں متوقع، امریکی پروفیسر

انہوں نے اس موقع پر انہیں ملنے والے ایوارڈ کو پاکستان کے طبی عملے کے نام کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹروں نرسوں اور دیگر طبی عملے نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر لوگوں کی خدمت کی جس کی وجہ سے ہزاروں انسانی جان بچ سکیں۔

تقریب کے آرگنائزر اور معروف بون میرو ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر ثاقب انصاری کا کہنا تھا کہ پروفیسر اقبال آفریدی وہ واحد پاکستانی ڈاکٹر ہیں جنہیں کسی امریکی کالج میں پاکستان میں رہتے ہوئے پروفیسر مقرر کیا گیا ہے جو کہ پورے پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے، ان کا کہنا تھا کہ چلڈرن اسپتال کراچی اس طرح کی تقریبات منعقد کرتا رہے گا تاکہ انسانیت کی خدمت کرنے والے ڈاکٹر اور شخصیات کی خدمات کا اعتراف کیا جائے۔



شاید آپ یہ بھی پسند کریں