کوکنگ آئل، 1500 ارب کا منافع چند لوگوں کے قبضے میں


پاکستان تحریک انصاف کے تین برس کے دوران خوردنی تیل کی قیمت میں 130 فیصد اضافہ ہوا. فوٹو: فائل

اسلام آباد: گزشتہ تین برس کے دوران خوردنی تیل کی قیمت میں 130 فیصد اضافہ ہوا یعنی کوکنگ آئل کی قیمت 160 روپے سے بڑھ کر 369 روپے کلو ہو گئی ہے۔

جیو نیوز کے پاس موجود خوردنی تیل بنانے والے مختلف عناصر جیسا کہ درآمدی اخراجات، ٹیکسز/ڈیوٹیز، ریکوری، ٹرانسپورٹ، پیکجنگ، منافع کا فرق اور خوردنی تیل / گھی کی کوالٹی سے متعلق سرکاری اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً 300 کے قریب بااثر افراد نے مارکیٹ کے مجموعی 1500 ارب روپے کے منافع کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خوردنی تیل کی قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے سے مینوفیکچررز، ہول سیلرز اور مڈل مین کو مجموعی طور پر اگست 2018 سے ستمبر 2021 تک 170 ارب روپے سے 190 ارب روپے تک اضافی منافع حاصل ہوا ہے۔

کوکنگ آئل،  1500 ارب کا منافع چند لوگوں کے قبضے میں

سرکاری ریکارڈ کے مطابق نومبر 2019 سے جولائی 2020 اور پھر اکتوبر / دسمبر 2020 سے جون/جولائی 2021 میں سب سے زیادہ منافع حاصل کیا گیا جب خوردنی تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر بڑی کمی واقع ہوئی تھی لیکن خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ بدستور جاری رہا حالانکہ پام آئل کی درآمدات پر ڈیوٹی میں بھی جنوری 2020 سے اپریل 2020 تک کمی کر دی گئی تھی۔

کوکنگ آئل،  1500 ارب کا منافع چند لوگوں کے قبضے میں

نومبر 2019 سے مارچ 2020 تک خوردنی تیل کی قیمتیں 213 روپے فی لیٹر سے 261 روپے فی لیٹر ہوئیں حالانکہ عالمی مارکیٹ میں پام آئل کی قیمتیں 750 ڈالر فی ٹن سے کم ہوکر 518 ڈالر فی ٹن ہو گئی تھی۔

اس مدت میں مینوفیکچررز نے صارفین کو ریلیف فراہم نہیں کیا حالانکہ ان کی اوسط پیداواری لاگت 123.5 روپے فی لیٹر سے 166.3 روپے فی لیٹر تک رہی تھی۔

کوکنگ آئل،  1500 ارب کا منافع چند لوگوں کے قبضے میں

اسی طرح انہوں نے ان 6 ماہ میں 98 روپے فی لیٹر سے 116 روپے فی لیٹر منافع کمایا، یہ وہ وقت تھا جب وزیراعظم عمران خان نے وزارت صنعت و پیداوار اور مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی) کو ہدایت کی تھی کہ وہ ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی کریں تاکہ کم قیمتوں کا فائدہ صارفین تک منتقل کیا جاسکے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے 7 ارب روپے کا یوٹیلٹی ریلیف پیکج بھی منظور کیا تھا۔

کوکنگ آئل،  1500 ارب کا منافع چند لوگوں کے قبضے میں

سرکاری ریکارڈ کے مطابق پریشانیوں میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب وزارت صنعت و پیداوار نے اپنے افسر امجد حفیظ کے ذریعے یہ انکشاف کیا کہ خوردنی تیل کی صنعت میں ایک گروہ نے 25 ارب روپے سے 30 ارب روپے منافع 2020 کی پہلی سہ ماہی میں حاصل کیا جبکہ وزارت صنعت و پیداوار کے ضمنی ادارے کے داخلی آڈٹ سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ گھی/تیل کو دی گئی سبسڈی سے 69 کروڑ 91 لاکھ 17 ہزار روپے کا خسارہ ہوا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین نے بھی متعدد اجلاسوں میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں 80 روپے فی کلو تک کمی کی درخواست کی لیکن حکومت نے اس پر کوئی عمل نہیں کیا۔

ایف بی آر پرال اور دیگر ریگولیٹرز کے اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جنوری 2019 سے ستمبر 2021 تک خوردنی تیل سے حاصل مجموعی محصولات 17.3 روپے سے 39.7 روپے فی کلو تک محدود رہے۔

وزیراعظم نے مارچ 2020 میں اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے انکوائری کا حکم دیا تھا لیکن اب تک کوئی پیش رفت نہ ہو سکی جب کہ ریگولیٹرز ریکارڈ اضافے پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں