ایف بی آرکیخلاف دھرنےکیلئے تاجروں کے قافلے فیض آباد روانہ


فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے خلاف فیض آباد میں دھرنے کے لیے تاجروں کے قافلے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگئے۔

راولپنڈی کی مارکیٹس اور دکانیں بند ہوگئی ہیں، فیض آباد میں دھرنے کے لیے جہلم، اٹک اور چکوال سے بھی تاجروں کے قافلے روانہ ہوگئے ہیں۔

 راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ سے بھی انجمن تاجران کا قافلہ فیض آباد کی طرف روانہ ہوگیا۔

 راولپنڈی ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن اور آل پاکستان انجمن تاجران نے بھی دھرنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ کا کہنا ہے کہ ہمارا دھرنا ایف بی آر کے پیچیدہ نظام کے خلاف ہے۔

 تاجر برادری کا کہنا ہےکہ پوائنٹ آف سیل پر ڈیوائس کسی صورت نہیں لگانے دیں گے اور نہ ہی جبری سیل ٹیکس رجسٹریشن ہونے دیں گے۔

آل پاکستان انجمن تاجران نے پوائنٹ آف سیل اور سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے خلاف 29 ستمبر کو ایف بی آر کے سامنے احتجاج کیا تھا اور ایف بی آر حکام کے ساتھ مذاکرات کے بعد مطالبات کی منظوری کے لیے وقت دیا  تھا جو ختم ہوگیا۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک فیض آباد پر دھرنا دیں گے،  صدارتی آرڈیننس میں ایف بی آر کو دیے گئے پولیس کے اختیارات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔

سیکرٹری جنرل آل پاکستان انجمن تاجران نعیم میرکا کہنا ہےکہ اگر ریاست نے عوام کو مزید بدحال کرنا ہے تو دہرا تہرا ٹیکس عائد کر دے۔

ان کا کہنا تھا کہ تاجر مہنگائی کا سبب نہیں بلکہ حکومت خود مہنگائی کرنا چاہتی ہے، تاجر عوام کی لڑائی لڑ رہے ہیں،  اگر حکومت نے تاجروں پر دہری ٹیکسیشن عائد کی تو اس کا سارا بوجھ عوام پر پڑے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں